29 جون 2013 - 19:30
بحرین کی شاہی حکومت پر تنقید کے الزام میں 17 سالہ لڑکے کو ایک سال کی قید

حکمران آل خلیفہ خاندان کے ایک رکن کی سربراہی میں بحرین کی ایک فوجداری عدالت نے ٹویٹر پر شاہی حکومت پر نکتہ چینی کرنے کے الزام میں ایک 17 سالہ لڑکے کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے.

ابنا: انسانی حقوق کے بحرینی مرکز بی سی ایچ آر نے سنیچر کے روز کہا ہے کہ 12 مارچ 2013 کو علی الشوفا کو ایک گھر پر چھاپے کے دوران آل خلیفہ کے اہلکاروں نے گرفتار کر لیا تھا اس کے بعد سے انہیں تحقیقات کے بہانے حراست میں رکھا گیا۔

علی پر الزام ہے کہ انہوں نے @alkawarahnews اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے بحرین کے آمر شیخ حماد الخلیفہ کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ شائع کیا تھا جبکہ 17 سالہ لڑکے نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

علی الشوفا کو ایسے وقت میں شاہی حکومت پر تنقید کے لیے مجرم ٹہرایا گیا ہے کہ جب ان کے وکیل نے اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ یہ اکاؤنٹ اب بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بحرین میں آزادی بیان کا گلا گھونٹنے پر آل خلیفہ خکومت کی سخت مذمت کی ہے اور اس طرح کی سزاؤں کو بیان کی آزادی پر بڑے پیمانے حملہ قرار دیا ہے۔

گزشتہ ماہ ایک عدالت نے ٹویٹر پر بحرینی شاہ کی آمرانہ پالیسیوں کی  مذمت کے الزام میں پانچ افراد کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

بی سی ایچ آر کے مطابق، جون کے شروع میں سعودی حمایت یافتہ آل خلیفہ کے فوجیوں نے ایک بحرینی نو جوان جعفر الدمستانی کا صرف اس لیے اغوا کر لیا تھا اور انہیں نظر بند رکھا کیونکہ انہوں نے اپنے والد کو حراست میں لیے جانے اور ان پر تشدد کیے جانے کی خبر کو ٹوئیٹ کیا تھا۔

بحرين کے انساني حقوق کے مرکز بی سی ایچ آر  کے رکن فلاح ربيع نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ شاہي حکومت منصوبہ بند طريقے سے سياسي قيديوں پر تشدد کر رہی ہے اور انہیں ايذائيں دے رہی ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس کي کوئی پرواہ نہيں ہے-

دوسری جانب بحرینی عوام نے جمہوري مطالبات پورے ہونے اور ملک میں آمریت کے خاتمہ تک احتجاج اور مظاہرے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
.......
/169